صحت و سائنسصنعت و تجارت

سائنسدانوں نے کرین بیری سےبیکٹیریا اور جراثم کش لپ سٹک تیار کرلی

خواتین کے میک اپ کی تمام اشیاء میں لپ اسٹک پر جراثیم اور بیکٹیریا منتقل ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے، اب اس میں کروندے (کرین بیری) سے نکالا ایک جزو ملایا گیا ہے جو لپ اسٹک پر جراثیم، بیکٹیریا اور وائرس جمع نہیں ہونے دیتا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اکثر خواتین اپنی لپ اسٹک میں دوستوں کو بھی شریک کرتی ہیں جس سے ان پر جراثیم جمع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اب امریکن کیمیکل سوسائٹی کے مطابق اس سے قبل سرخ ڈریگن فروٹ سے بھی لپ اسٹک بنائی گئی ہے جو کیمیائی اجزا کا متبادل ثابت ہوئی لیکن اب کرین بیری کے کشید کردہ ایک کیمیکل ملا کراسے جراثیم کش بنایا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سائنس دانوں نے لپ اسٹک  کی کریم بیس میں کروندے سے اخذ کردہ کیمیکل ملایا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک قسم کا مکھن، وٹامن ای، پرووٹامن بی فائیو، باباسو اور مگرناشپتی (ایوکیڈو) تیل بھی شامل کیا ہے۔ اب کرین بیری والی لپ اسٹک والی کریم پر مختلف اقسام کے جراثیم، بیکٹیریا اور وائرس ڈالے گئے اور وہ ایک منٹ میں بھی ہی فنا ہوکر غائب ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی ادویہ کے سامنے ڈٹ جانے والے ڈھیٹ بیکٹیریا، مائیکوبیکٹیریا اور فنگس وغیرہ بھی پانچ گھنٹے بعد فنا ہوکر غائب ہوگئے۔ اسی بنا پر ماہرین پرامید ہیں کہ ان کی تیارکردہ کروندے والی لپ اسٹک بہت سی اقسام کے جراثیم سے تحفظ دے سکتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button